مسافر نے مقیم کے پیچھے آخر کی دورکعتیں یا ایک رکعت یا صرف قعدہ اخیرہ پایا تو نماز کیسے پوری کرے؟

مسافر نے مقیم کے پیچھے آخر کی دورکعتیں یا ایک رکعت یا صرف قعدہ اخیرہ پایا تو نماز کیسے پوری کرے؟

مسافر نے مقیم کے پیچھے آخر کی دورکعتیں یا ایک رکعت یا صرف قعدہ اخیرہ پایا تو نماز کیسے پوری کرے؟

مسئلہ کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسافر نے مقیم امام کی اقتدا کی اخیر والی دو رکعتیں اس کو ملیں تو اب کتنی ادا کرے اور صرف ایک رکعت پایا، یا قعدہ اخیرہ پایا تو کتنی رکعتیں ادا کرے؟

المستفتی: راشد محمد سمیع پر ساکھنیاؤں ، سدھارتھ نگر، یوپی

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب:

مسافر نے جب مقیم امام کی اقتدا کی تو وہ بھی مقیم کے حکم میں ہو گیا چار رکعت نماز ادا کرے گا۔

فتاوی ہندیہ الباب الخامس عشر في صلاة المسافر میں ہے:

وان اقتدی مسافر بمقيم اتم اربعاً اھ (ج۱ ص۱۴۲)

اور جب اس کو دورکعت ملی ہے تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد فاتحہ اور سورہ کے ساتھ دو رکعت پڑھ کر اپنی نماز پوری کرے اور جب ایک رکعت پایا ہو تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو اگر پہلے ثنا نہیں پڑھا تھا تو ثنا پڑھے پھر تعوذ ، پھر فاتحہ اور سورہ پڑھے، پھر رکوع سجود کے بعد قعدہ کرے اس کے بعد کھڑا ہو اور ایک رکعت مع فاتحہ سورہ پڑھ کر پوری کرے اب اس کی ایک رکعت اور رہ گئی ہے اس میں صرف سورہ فاتحہ پڑھے اور رکوع وسجود کر کے نماز پوری کرے اور صرف قعدہ اخیرہ پایا تو چار رکعتیں پوری کرے دو میں ضم سورہ کرے اور دو اخیر رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھے۔

در مختار میں ہے :

والمسبوق من سبقہ الامام بها أو ببعضها و هو منفرد، حتى يثني و ويتعوذ ويقرأ، ويقضى اول صلاته فى حق قرأة وآخرها فى حق تشهد، فمدرك ركعة من غير فجر يأتي بركعتين بفاتحة وسورة وتشهد بينهما وبرابعة الرباعي بفاتحة فقط ولا يقعد قبلها الا في اربع ۱ھ ملخصاً

رد المحتار میں ہے:

(والمسبوق من سبقه الامام بها ) اى بكل ركعات او ببعضها (حتى يثنى منفرد الخ) فيما يقضيه بعد فراغ امامه فيأتي بالثنا والتعوذ لانه للقرأة ويقرأ لانه يقضى اول صلاته في حق القرأة ولو ادركه فى ركعة الرباعي يقضى ركعة بفاتحة وسورة و تشهد ثم ركعتين اولاهما بفاتحة وسورة وثانيتهما بفاتحة خاصة ,۱ھ ملخصاً
(ج) اص ۵۹۷)
واللہ تعالیٰ اعلم

كتبه : محمد صابر حسین فیضی
۴ محرم الحرام ۱۴۲۸ھ
الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

شیئر کیجیے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔