مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں جمعہ کی اذان خطبہ کب شروع ہوئی اور کس نے شروع کی

مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں جمعہ کی اذان خطبہ کب شروع ہوئی اور کس نے شروع کی

مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں جمعہ کی اذان خطبہ کب شروع ہوئی اور کس نے شروع کی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ
اگر ان متبرک زمانوں میں یہ اذان باہر خارج مسجد ممبر کے سامنے ہوتی تھی تو مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں کب شروع ہوئی اور کس نے شروع کی اور اس کے شروع کرنے کی شرعاً کیا حیثیت ہے؟

المستفتی : محمد عبد الرشید قادری پیلی بھیتی

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب

مسجد کے اندر اذان کب شروع ہوئی اور کس نے شروع کی اس کی صراحت کتب فقہ میں نہیں ملتی ۔ بعض لوگ مسجد میں اذان دینے کی نسبت ہشام بن عبد المالک کی طرف کرتے ہیں۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ اگر صحیح ہو بھی تو اس کا قول و فعل حجت نہیں کہ وہ ایک مروانی ظالم بادشاہ ہے۔

فتاوی رضویہ میں ہے۔

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہم سے مسجد کے اندر اذان دلوانا کبھی ایک بار کا بھی ثابت نہیں جو لوگ اس کا دعوی کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر افترا کرتے ہیں۔ ہشام سے بھی اس اذان کا مسجد کے اندر دلوانا ہرگز ثابت نہیں البتہ پہلی اذان کی نسبت بعض نے لکھا ہے کہ اسے ہشام مسجد کی طرف منتقل کر لایا اور اس کے بھی یہ معنی نہیں کہ مسجد کے اندر دلوائی بلکہ امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ بازار میں پہلی اذ ان دلواتے تھے انه ہشام نے مسجد کے منارہ پر دلوائی۔ رہی یہ دوسری اذان خطبہ اس کی نسبت تصریح ہے کہ ہشام نے اس میں کچھ تغیر نہ کیا اسی حالت پر باقی رکھی جیسے زمانہ رسالت و زمانہ خلافت میں تھی

امام محمد بن عبد الباقی زرقانی رحمتہ اللہ تعالی شرح مواہب شریف جلد ہفتم طبع مصرص ۴۳۵ میں فرماتے ہیں۔

لما كان عثمان امر بالاذان قبله على الزوراء ثم هشام إلى المسجد اى امر بفعله فيه وجعل الآخر الذي بعده جلوس الخطيب على المنبر بين يديه بمعنى انه ابقاه بالمكان الذي يفعل فيه فلم يغيره بخلاف ما كان بالزوراء فحوله إلى المسجد على المنار .

یعنی جب عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے اذان خطبہ سے پہلے ایک اذان بازار میں ایک مکان کی چھت پر دلوائی پھر اس پہلی اذان کو ہشام مسجد کی طرف منتقل کر لایا اس کے مسجد میں ہونے کا حکم دیا اور دوسری کہ خطیب کے منبر پر بیٹھنے کے وقت ہوتی ہے وہ خطیب کے مواجہ میں کی یعنی جہاں ہوا کرتی تھی وہیں باقی رکھی اس اذان ثانی میں ہشام نے کوئی تبدیلی نہ کی بخلاف بازار والی اذان اول کے کہ اسے مسجد کی طرف منارہ پر لے آیا۔ انتہی ۔
ہاں وہ جمہور مالکیہ کہ اذان ثانی کو امام کی محاذات میں ہونا بدعت کہتے ہیں اور اس کا بھی منارہ پر ہی ہونا سنت بتاتے ہیں ان میں بعض کے کلام میں واقع ہوا کہ سب میں پہلے اذان ثانی امام کے روبرو ہشام نے کہلوائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم و خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانہ میں اذان کبھی محاذات امام میں نہ ہوتی تھی منارہ ہی پر تھی۔ پھر اس سے کیا ہوا۔

غرض ہشام بیچارے سے بھی ہرگز اس کا ثبوت نہیں کہ اس نے اذان خطبہ مسجد کے اندر منبر کے برابر کہلوائی ہو جیسی اب کہی جانے لگی اس کا کچھ پتا نہیں کہ کس نے یہ ایجاد نکالی اور اگر ہشام سے ثبوت ہوتا بھی تو اس کا قول و فعل کیا حجت تھا وہ ایک مروانی ظالم بادشاہ ہے ( ج ۲ ص ۴۱۳) واللہ تعالیٰ اعلم

کتبه: محمد محسن مصباحی
١٥ ذو الحجہ ١٤٣٢ھ

الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

 

یہ بھی پڑھیں:

جمعہ کی اذان خطبہ کہاں ہونی چاہیے مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں یا خارج مسجد منبر کے سامنے

قبل اذان واقامت درود شریف مستحسن ہے

کیا لاؤڈ اسپیکر کی اذان کا جواب اور اس پر خاموشی ضروری ہے ؟

شیئر کیجیے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔