کیا لاؤڈ اسپیکر کی اذان کا جواب اور اس پر خاموشی ضروری ہے ؟

کیا لاؤڈ اسپیکر کی اذان کا جواب اور اس پر خاموشی ضروری ہے ؟

کیا لاؤڈ اسپیکر کی اذان کا جواب اور اس پر خاموشی ضروری ہے ؟
مسٔلہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ
اذان کی اصل آواز پر خاموش نہ رہنے پر جو وعیدیں ہیں کیا مائک سے جو اذان ہو اس پر بھی ہیں؟

بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الجواب:

علمائے محققین کے نزدیک یہ اختلاف ہے کہ لاؤڈاسپیکر کی آواز بعینہ متکلم کی آواز ہے یا نہیں؟ بعض علماء بعینہ متکلم کی آواز مانتے ہیں اور بعض نہیں مانتے ،تو اگر لاؤڈاسپیکر سے اذان ہو اور لاؤڈاسپیکر کی آواز متکلم کی آواز نہ مانیں تو خاموش رہنے اور جواب دینے کے بارے میں وہ حکم نہ ہوگا جو اذان کی اصل آواز پر ہے، اور اگر متکلم ہی کی آواز مانیں تو پھر وہی حکم ہوگا جو اذان کی اصل آواز پر ہے کہ جب اذان ہو تو اتنی دیر کے لیے سلام ، کلام اور جواب سلام تمام کام کاج چھوڑ دیا جائے اور اذان کو غور سے سنا جائے اور اذان کا جواب دیا جائے کہ جو اذان کے وقت باتوں میں مشغول رہتا ہے اس پر معاذ اللہ خاتمہ برا ہونے کا اندیشہ ہے اور احتیاط بھی یہی ہے کہ اذان کے وقت خاموش رہیں، خواہ لاؤڈ اسپیکر سے اذان ہو یا بغیر لاؤڈ اسپیکر کے۔
واللہ تعالی اعلم
كتبه : محمد صدیق عالم قادری
الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح: محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

 

یہ بھی پڑھیں:

حنفی شافعی امام کے پیچھے شافعی اوقات کے مطابق نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

بعد فرض بآواز بلند کلمہ طیبہ کی تکرار کرنا کیسا ہے

مسافر نے مقیم کے پیچھے آخر کی دورکعتیں یا ایک رکعت یا صرف قعدہ اخیرہ پایا تو نماز کیسے پوری کرے؟

شیئر کیجیے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔