جمعہ کی اذان خطبہ کہاں ہونی چاہیے مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں یا خارج مسجد منبر کے سامنے
مسئلہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل
(۱) جمعہ کی اذان خطبہ کہاں ہونی چاہئے۔ مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں یا خارج مسجد منبر کے سامنے؟
(۲) حدیث وفقہ میں اس اذان کے مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں یا خارج مسجد ہونے کی کوئی صراحت ہے یا نہیں؟
(۳) یہ اذان زمانہ رسالت و زمانہ خلفائے راشدین میں کہاں ہوتی تھی مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں یا باہر؟
المستفتی: محمد عبدالرشید قادری پیلی بھیتی
بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الجواب (۱-۲-۳) :
جمعہ کی اذان ثانی خارج مسجد منبر کے سامنے ہونی چاہئے ۔ داخل مسجد اذان دینا مکروہ و ممنوع ہے۔ حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اور زمانہ خلفائے راشدین میں جمعہ کی یہ اذان مسجد سے باہر دروازے ہی پر ہوا کرتی تھی ۔
جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:
عن السائب بن يزيد رضى الله تعالى عنه قال كان يؤذن بين يدى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد وابى بكر و عمر رضى الله عنهما.
یعنی جب رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازہ پر اذان ہوتی اور ایسا ہی حضرت ابو بکر صدیق و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانہ میں بھی عمل درآمد تھا۔ (سنن ابی داؤ د شریف ج ۱ ص ۱۵۵)
فقہائے کرام نے مسجد میں اذان کہنے کو مکروہ فرمایا ہے
چنانچہ فتاوی قاضی خاں (جلد اول ص ۷۸ فتاویٰ هند یه جلد اول ص ۵۵ بحر الرائق ج ۱ ص ٢٦٨ طحطاوی علی مراقی الفلاح ص ۱۰۷ اور فتح القدیر ج ا ص ۲۵۰ وغیر ہا) میں تصریح فرمائی کہ مسجد میں اذان دینی مکروہ ہے۔
فتاوی خانیہ میں ہے:
ينبغى ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد
یعنی اذان منارے پر یا مسجد کے باہر ہونی چاہیے ۔ مسجد میں اذان نہ کہی جائے ۔
بعینہ یہی عبارت فتاوی ہندیہ میں بھی ہے۔
فتح القدیر میں ہے
قالوا لا يؤذن في المسجد
یعنی فقہائے کرام نے فرمایا کہ مسجد میں اذان نہ دی جائے اور بحر الرائق میں بھی انہیں الفاظ میں یہی حکم ہے۔
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
یکرہ ان یؤذن في المسجد كما في القهستاني عن النظم
یعنی مسجد میں اذان دینا مکروہ ہے اس طرح قہستانی میں نظم سے ہے۔
واللہ تعالی اعلم
کتبه: محمد محسن مصباحی
١٥ ذو الحجہ ١٤٣٢ھ
الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
یہ بھی پڑھیں:
کیا لاؤڈ اسپیکر کی اذان کا جواب اور اس پر خاموشی ضروری ہے ؟
حنفی شافعی امام کے پیچھے شافعی اوقات کے مطابق نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟