مسئلہ :ختم قرآن کے تراویح کی آخری رکعت میں الحمد، سورہ ناس پھر الحمد پڑھتے ہیں کیا یہ صحیح ہے؟
نماز میں اکثر حفاظ لوگ جس رکعت میں قرآن پاک کا اختتام کرتے ہیں یعنی سورہ ناس پڑھتے ہیں اسی کے ساتھ دوبارہ اسی رکعت میں الحمد شریف پوری سورت پڑھتے ہیں ایسی صورت میں ایک ہی رکعت میں دو مرتبہ الحمد شریف پڑھی جاتی ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورت حال میں نماز ہو جائےگی شرعاً کوئی قباحت تو نہیں؟
المستفتی: شمشاد احمد حبیبی ، سلطان پور
بسم الله الرَّحْمنِ الرَّحِيم
الجواب:
حافظ قرآن کا نماز تراویح کی آخری رکعت میں الحمد کے بعد سورہ ناس پھر اس کے بعد اسی رکعت میں الحمد مع سورت پڑھنے سے نماز میں کوئی قباحت نہیں فتاوی ہندیہ میں ہے :
لوكررها في الأوليين يجب عليه سجد السهو بخلاف مالوا عادها بعد السورة او كررها في الآخريين كذا في التبيين (ج۱ ص۱۲۶)
بہار شریعت میں ہے:
الحمد کے بعد سورہ پڑھی اس کے بعد پھر الحمد پڑھی تو سجدہ سہو واجب نہیں ( ح ۲ ص ۵۰) مگر بہتر طریقہ یہ ہے کہ ختم قرآن کے دن پہلی رکعت میں معوذتین اور آخری رکعت میں الم سے مفلحون تک پڑھے۔
در مختار میں ہے :
ويكره الفصل بسورة قصيرة وان يقراء منكوسا الا اذا ختم فيقراء من البقرة. (ج۱ ص۵۴۶)
رد المحتار میں ہے:
قال فی شرح المنية في الولو الجية من يختم القرآن في الصلاة اذا فرغ من المعوذتين في الركعة الأولى يركع ثم يقرا في الثانية بالفاتحة وشىٔ من سورة البقرۃ لان النبي عليه الصلاة والسلام قال "خير الناس المرتحل اى الخاتم المفتتح – (ج۱ص۵۴۷ فصل في القراءة) والله تعالى اعلم
كتبه : محمد احمد مصباحی
۳رجب المرجب ۱۴۲۸ھ
الجواب صحيح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحيح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
یہ بھی پڑھیں:
مردار کی کھال بعد دباغت بیچنا جائز ہے
بوقت غسل ماء مستعمل کے قطرات بالٹی میں پڑیں تو غسل کا کیا حکم ہے؟