اجماع کب اور کس کا معتبر ہے نیز اجماع کی اقسام

اجماع کب اور کس کا معتبر ہے نیز اجماع کی اقسام

اجماع کب اور کس کا معتبر ہے نیز اجماع کی اقسام

مسئلہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ اجماع کب معتبر ہے؟ کس کا معتبر ہے؟ نیز اجماع کی کتنی قسمیں ہیں؟ اگر اجماع حدیث وفقہ کے خلاف ہو تو وہ قابل عمل ہوگا یا نہیں اگر نہیں تو کیوں؟

المستفتی: محمد عبدالرشید قادری پیلی بھیتی

بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الجواب

اجماع اس وقت معتبر ہے جب کہ ایک زمانہ کے تمام مجتہدین کا اتفاق ہو جائے اگر ایک نے بھی اختلاف کیا تو اجماع معتبر نہ ہوگا ۔

فتاوی رضویہ میں ہے

اجماع میں ایک وقت کے تمام مجتہدین کا اتفاق درکار ہے ایک کے خلاف سے بھی اجماع نہیں رہتا ( ج ۷ ص ۴۸۲)

اجماع ان کا معتبر ہے جو اصول فقہ سے اچھی طرح واقف ہوں ۔ لہذا عوام و متکلمین و محدثین جو اصول فقہ سے نا آشنا ہوں ان کا اجماع معتبر نہیں ہے۔

اصول الشاشی میں ہے:

والمعتبر في هذا الباب اجماع اهل الراي والاجتهاد فلا يعتبر بقول العوام والمتكلم والمحدث الذي لا بصيرة له في اصول الفقه (۷۹)

اجماع کی چار قسمیں ہیں:

  • (۱) اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم
  • (۲) بعض صحابہ کا اجماع اور بعض کا سکوت
  • (۳) اجماع تابعین
  • (۴) اجماع متاخرین۔

اصول الشاشی میں ہے

: الاجماع على اربعة اقسام اجماع الصحابة رضى الله عنهم على حكم الحادثة نصاثم اجتماعهم بنص البعض وسكوت الباقين عن الرد ثم اجماع من بعدهم فيما لم يوجد فيه قول السلف ثم الاجماع على احد اقوال السلف

یعنی اجماع کی چار قسمیں ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نص کے ذریعہ کسی مسئلہ جدید کے حکم پر اجماع پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع بعض کا نص کے ذریعہ اور باقی کا تردید سے سکوت اختیار کر کے پھر صحابہ کے بعد والوں کا یعنی تابعین کا اجماع جب کہ صحابہ کا قول اس مسئلہ جدید میں نہ ملے۔ پھر متقدمین کے اقوال میں سے ایک کے قول پر اجماع ( یعنی متاخیر ین کا اجماع ) (ص ۷۸)

اجماع قرآن حدیث کے خلاف ہو ہی نہیں سکتا اس پر احادیث مبارکہ دال ہیں۔

فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں ہے ثانیا:

بقول رسول الله صلى الله عليه وعلى آله واصحابہ وسلم لا تجتمع امتى على الضلالة فأنه يفيد عصمة الامة عن الخطأ فأنه متواتر المعنى فأنه قد ورد بألفاظ مختلفة يفيد كلها العصمة وبلغت رواة تلك الألفاظ حد التواتر وتلك الألفاظ نحو: مارأه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن و نحو "ما فارق الجماعة شبراً فقد خلع ربقة الاسلام ونحو عليكم بالجماعة ونحو” الزموا الجماعة ونحو” من فارق الجماعة مات ميتة الجاهلية ونحو عليكم بالسواد الاعظم ونحو ” لا تجتمع امتى على الخطأ.

حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان ہے میری امت گمراہی پر متفق نہ ہو گی۔ یہ حدیث امت کے خطا سے معصوم ہونے کا فائدہ دیتی ہے اور یہ حدیث معنی مشہور ہے جو مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہےاور مجموعی طور پر وہ تمام کلمات امت کے خطا سے معصوم ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ اور ان کلمات کے راوی تواتر کی حد تک پہونچے ہوئے ہیں وہ کلمات یہ ہیں ” جو بات مسلمان اچھی جانیں وہ عند اللہ اچھی ہے جو جماعت سے بالشت بھر الگ ہوا تو اس نے اسلام کے قلادہ کو اپنی گردن سے اتار دیا۔ جماعت کو اختیار کرو جماعت کو لازم پکڑو جو جماعت سے الگ ہوا وہ جاہلیت کی موت مرا سواد اعظم کو اختیار کرو میری امت غلطی پر متفق نہیں ہوسکتی ۔‘ ( ج ۲ ص ۲۷۲)

فتاوی رضویہ میں ہے:

اجماع کے خلاف کا مجتہد کو بھی اختیار نہیں اگر چہ وہ اپنی رائے میں کتاب و سنت سے اس کا خلاف پاتا ہو یقینا سمجھا جائے گا کہ یا فہم کی خطا ہے یا یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے اگر چہ مجتہد کو اس کا ناسخ نہ معلوم ہو۔ ( ج ۱ ص ۵۷)
والله تعالى اعلم

کتبه: محمد محسن مصباحی
١٥ ذو الحجہ ١٤٣٢ھ

الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

یہ بھی پڑھیں:

جمعہ کی اذان خطبہ کہاں ہونی چاہیے مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں یا خارج مسجد منبر کے سامنے

قبل اذان واقامت درود شریف مستحسن ہے

کیا لاؤڈ اسپیکر کی اذان کا جواب اور اس پر خاموشی ضروری ہے ؟

مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں جمعہ کی اذان خطبہ کب شروع ہوئی اور کس نے شروع کی

داخل مسجد اذان ہونے پر امت کا اجماع نہیں ہوا

شیئر کیجیے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔