حضور نے نماز میں درود شریف پڑھا یا نہیں؟
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ نماز میں التحیاب واجب ہے اور درود ابراہیم بھی نماز میں پڑھی جاتی ہے تو کیا نماز میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درود شریف پڑھی ہے جب کہ درود و سلام نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کے اوپر بھیجا جاتا ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں بینوا توجروا۔
المستفتى حافظ و قاری محمد عثمان صاحب، استاذ دار العلوم امجد یہ ارشد العلوم اوجها گنج بستی
بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ۔
الجواب:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں درود شریف پڑھا یا نہیں اس کے تعلق سے کوئی صراحت میری نظر میں نہیں ہے اور نہ ہی سائل کو اس کی کوئی حاجت، ظاہر یہ ہے کہ صلوا“ کے خطاب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم شامل نہیں اس لیے آپ پر درود شریف واجب نہیں
جیسا کہ درمختار میں ہے:
وفي المجبتى لا يجب على النبى صلى الله عليه وسلم ان يصلى على نفسه
رد المحتارمیں ہے:
لا يجب الخ لانه غير مراد بخطاب صلوا ولا داخل تحت ضميره، كما هو المتبادر من ترکیب صلوا علیه ( ج ا ص ۵۱۵)
یہ حکم نماز کے باہر کا ہے اور نماز کے اندر درود شریف پڑھنے کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے کہ سرکار علیہ الصلوۃ والسلام اس طرح کے خطاب میں شامل نہیں ہیں۔ واللہ تعالی اعلم
كتبة محمد احمد قادری
۹ رجب المرجب ۱۴۲۹ھ
الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
یہ بھی پڑھیں:
امام تراویح کے نذرانہ کے لئے چندہ ہوا اسے مسجد و مدرسہ میں لگا سکتے ہیں؟
کیا ایک ہی شخص تراویح میں ایک جگہ بحیثیت سامع اور دوسری جگہ بحیثیت امام شرکت کر سکتا ہے؟