حنفی شافعی امام کے پیچھے شافعی اوقات کے مطابق نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

حنفی شافعی امام کے پیچھے شافعی اوقات کے مطابق نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

حنفی شافعی امام کے پیچھے شافعی اوقات کے مطابق نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین وملت اس مسئلہ میں :
کیرل کے ایک مدرسہ میں جہاں ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں اور ان کے درمیان پچیس احناف بھی زیر تعلیم ہیں جہاں پر پانچوں وقت کی نمازیں شافعی مسلک کے مطابق ہوتی ہیں اور انہیں کے وقت پر چند ناگریز حالات کی وجہ سے وقت میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی ہے اور نہ احناف کو الگ جماعت کرنے کا موقع ملتا ہے لہذا مطلوب الامر یہ ہے کہ کیا ایسی حالت میں شافعی امام کی اقتداء میں نماز ادا کر سکتے ہیں؟

المستفتی: چند پریشان طلبہ، دارالہدی چماڑ، ضلع ملا پورم، کیرلا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب:

حنفی طلبہ نماز عصر حنفی وقت کے مطابق پڑھیں کیونکہ شوافع تمام نمازیں اول وقت میں ادا کرتے ہیں تو جس وقت وہ عصر پڑھیں گے اس وقت ہمارے مذہب کے مطابق عصر کا وقت نہ ہوگا لہذا حنفی طلبہ بنیت نفل شریک ہوں پھر حنفی وقت میں نماز عصر ادا کریں۔ وہ وقت فارغ ہوتا ہے اس میں ادائگی عصر سے کوئی چیز مانع نہیں۔ رہے باقی اوقات تو ان میں حنفی شافعی اختلاف جواز اور عدم جواز کا نہیں بلکہ افضل غیر افضل کا ہے لہذا بوجہ مجبوری حنفی طلبہ ان کی جماعت میں شریک ہو سکتے ہیں مدرسہ کے ذمہ دار ان کو چاہئے کہ وہ اپنے نظام الاوقات میں اتنی گنجائش رکھیں کہ حنفی طلبہ نماز عصر اپنے وقت میں ادا کر سکیں۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ حنفی کی نماز شافعی امام کی اقتداء میں اس وقت درست ہوگی جب کہ وہ طہارت اور مسائل نماز میں ہمارے مذہب کے ارکان و شرائط کی رعایت کریں یا یقین ہو کہ اس نماز میں رعایت کی ہے اور اگر یہ یقین ہو کہ اس نماز میں ہمارے مذہب کی رعایت نہیں کی ہے تو حنفی کی نماز باطل محض ہوگی اور اگر معلوم ہی نہ ہو کہ ہمارے مذہب کی رعایت کرتا ہے اور نہ یہ کہ اس نماز میں رعایت کی ہے تو جائز ہے مگر مکروہ ہے ۔

ہدایہ میں ہے:

و اول وقت المغرب اذا غربت الشمس و اخر وقتها ما لم يغب الشفق و قال الشافعي مقدارها ما يصلى فيه ثلث ركعات اھ
(كتاب الصلوة باب مواقيت الصلوة ج ۱/ص ۶۴)

پھر اسی میں ہے:

و اول وقت العشاء اذا غاب الشفق و آخر وقتها مالم يطلع الفجر لقوله عليه السلام و آخر وقت العشاء حين يطلع الفجر وهو حجة على الشافعي في تقديره بذهاب ثلث الليل اھ ( ج ۱/ص ٦٦)

در مختار باب الامامة میں ہے :

ان تيقن المراعات لم يكره او عدمها لم يصح وان شک کرہ اھ

اسی کے تحت رد المحتار میں ہے :

(قوله ان تیقن المراعاة لم يكره الخ) اى المراعاة في الفرائض من شروط و اركان فى تلك الصلوة و ان لم يراع في الواجبات و السنن اھ (ص ٥٦٣ ، ج ۱)

ایسا ہی بہار شریعت ج ۳ ص ۱۱۴ میں بھی ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم.

كتبة : محمد ابوبکر مصباحی
٥/شعبان المعظم١٤٢٧ھ
الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

 

یہ بھی پڑھیں:

عصر کا مثل ثانی کے بعد پڑھنا مفتی بہ ہے

مغرب میں دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہ تنزیہی اور بلا عذراتنی تاخیر کہ ستارے گتھ جائیں تحریمی ہے

حضور نے نماز میں درود شریف پڑھا یا نہیں؟

شیئر کیجیے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔