فاسق یا غیر فاسق پانی کی پاکی یا ناپاکی کی خبر دے تو اس کا کیا حکم ہے؟
اگر کسی فاسق یا غیر فاسق نے پانی کے پاک یا نا پاک ہونے کی خبر دی تو اس کا کیا حکم ہے جب کہ غالب گمان ہو کہ مخبر جھوٹا ہے؟
المستفتی: فاروق احمد چلبلا نہوالی الہ آباد
بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الجواب
جب تک پانی کے ناپاک ہونے کا یقین نہ ہو وہ طاہر مطہر ہے اس لیے کہ
"الاصل فی الاشياء الطهارة ا ھ
اور پانی کی اصل بھی پاک ہونا ہے ایسا ہی فتاوی رضویہ ج ۱ ص ٥٦٩ پر ہے۔ نیز جب مخبر کے جھوٹے ہونے کا غالب گمان ہے تو اس کی خبر کا کوئی اعتبار نہیں وجہ یہ ہے کہ فاسق کی خبر واجب التوقف ہے بے تحقیق فورا اس کی بات پر اعتماد جائز نہیں تفسیرات احمد یہ میں ص ٤٥١ پر ہے
المغی ان جاء كم فاسق بخبر فتوقفوا الى ان تبين لكم الحال ا ھ ملخصا
چاہے کیسی ہی وہ خبر ہو اور کیساہی وہ شخص ہو جب اس کی خبر غیر معتبر تو پانی اپنی اصل پر باقی ا ھ٠ واللہ تعالی اعلم
كتبه : محمد ارشد رضا مصباحی ١١ صفر المظفر ۱۴۲۴ھ
الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح: محمد ابرار احمد امجدی برکاتی