بارش کا پانی ناپاک جگہوں سے ہوتا ہوا کہیں اکٹھا ہو تو اس سے وضو وغیرہ کرنا کیسا ہے؟
بارش کا پانی ناپاک جگہوں سے بہہ کر ایک جگہ اکٹھا ہوا تو اس پانی کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
المستفتی: فاروق احمد چلبلا نہوالی، الہ آباد
بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
الجواب
بارش کے پانی کا صرف نجاستوں سے گزر جانا نجاست کا موجب نہیں
فان الماءالجارى يطهر بعضه بعضا ا ھ
(فتاوی رضویہ ج ا ص ۲۳۵)
البتہ بارش کا پانی اگر ناپاک جگہوں سے بہہ کر ایک جگہ اکٹھا ہوا تو دیکھا جائے کہ اس کا رنگ، بو، مزہ بدل گیا ہے یا نہیں، پہلی صورت میں پانی ناپاک ہے اس سے وضو وغیرہ جائز نہیں اور دوسری صورت میں پاک ہے اس سے وضو وغیرہ کرنا جائز ہے جیسا کہ ہدایہ کتاب الطہارۃ میں ہے:
الطهارة من الاحداث جائزة بماء السماء والاودية والعيون والأبار والبحار لقوله تعالى انزلنا من السماء ماء طهوراً وقوله عليه السلام الماء طهور لا ينجسه شي الا
ما غير لونه او طعمه اوريحه ۱ھ (ج۱ ص ۱۶) والله تعالیٰ اعلم
كتبه : محمد ارشد نظامی مصباحی ۱۱ صفر المظفر ۱۴۲۴ھ
الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح: محمد ابرار احمد امجدی برکاتی