اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں ڈالنا اور دائیں بائیں چہرہ پھیرنا کیسا ہے

اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں ڈالنا اور دائیں بائیں چہرہ پھیرنا کیسا ہے

اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں ڈالنا اور دائیں بائیں چہرہ پھیرنا کیسا ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ
فقہ کی کتابوں میں اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں ڈالنے یا کانوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم ہے
اور حی علی الصلوۃ وحی علی الفلاح کہتے وقت دائیں بائیں منھ گھومانے کا حکم آیا ہے تو کیا اب زمانہ موجودہ میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان ہونے کے سبب یہ حکم موقوف اور اس کی استحبابیت و ضرورت ختم ہو گئی ہے؟ بارگاہ حضور میں گزارش ہے کہ جوابات صاف اور جامع الفاظ میں تحریر فرمائیں

المستفتی: محمد عبد الرشید قادری پیلی بھیتی

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب

اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں ڈالنا اور حی علی الصلوٰۃ وحی علی الفلاح کہتے وقت دائیں بائیں منہ پھیرنا مستحب ہے۔ لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی وجہ سے ان مستحبات کو نہ چھوڑے بلکہ انہیں بھی بجالائے ۔ واللہ تعالی علم

کتبه: محمد محسن مصباحی
١٥ ذو الحجہ ١٤٣٢ھ

الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

 

یہ بھی پڑھیں:

جمعہ کی اذان خطبہ کہاں ہونی چاہیے مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں یا خارج مسجد منبر کے سامنے

قبل اذان واقامت درود شریف مستحسن ہے

کیا لاؤڈ اسپیکر کی اذان کا جواب اور اس پر خاموشی ضروری ہے ؟

مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں جمعہ کی اذان خطبہ کب شروع ہوئی اور کس نے شروع کی

داخل مسجد اذان ہونے پر امت کا اجماع نہیں ہوا

اجماع کب اور کس کا معتبر ہے نیز اجماع کی اقسام

چودہ سو سال میں کتنے مسائل پر امت کا اجماع ہوا

چودہ سو سال میں کتنی سنتیں مردہ ہوئیں اور انہیں کس کس نے زندہ کیا

شیئر کیجیے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔