عصر کا مثل ثانی کے بعد پڑھنا مفتی بہ ہے اگر مثل اول کے بعد پڑھے تو بھی ہو جائے گی مگر ایسا نہ چاہئے

عصر کا مثل ثانی کے بعد پڑھنا مفتی بہ ہے

عصر کا مثل ثانی کے بعد پڑھنا مفتی بہ ہے اگر مثل اول کے بعد پڑھے تو بھی ہو جائے گی مگر ایسا نہ چاہئے

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں زید کہتا ہے کہ عصر کی نماز اگر کسی شئی کا سایہ اس کے مثل ہو جائے تو جائز ہے اور پڑھ سکتے ہیں اور دلیل دیتا ہے کہ اگر کوئی مثل ظل کے وقت نماز عصر پڑھے تو اعادہ فرض نہیں ہے اور فتوی دونوں قول پر ہے (الملفوظ اعلیٰ حضرت مکمل ج ۱ ص ۲۶ رضا اکیڈمی ) اور

وقت الظهر من زواله الى بلوغ الظل مثلية سوى فى وعنه مثله وهو وقولهما وقول زفر و الائمة الثلثة والامام الطحاوى و به نأخذ في غرر الاذكار وهو مأخوذ به او في البرهان وهو الاظهر لبيان جبرئيل عليه السلام (الدر المختار شرح تنویر الابصار)

المستفتی: دار الہدیٰ اسلامک اکیڈمی ہدایا نگر ترو گاڑی ملا پرم کیرالہ

بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الجواب:

امام اعظم رحمۃ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ عصر کا وقت مثل ثانی کے بعد شروع ہوتا ہے اور یہی ہمارے نزدیک مفتی بہ ہے لیکن مثل اول کے بعد پڑھ لے تو اس کی نماز ہو جائے گی کہ کچھ فقہا نے اس پر بھی فتوی دیا ہے اختلاف فتوی کی وجہ سے یہ گنجائش ہے مگر جو قول امام کے رائج ہونے کا اعتقاد رکھتا ہے اس کو انہیں کے مذہب مفتی بہ پر عمل چاہتے اور بلا عذر قول صاحبین کی طرف عدول نہ چاہئے ہدایہ میں ہے:

اول وقت العصر اذا خرج وقت الظهر على القولين وآخر وقتها مالم تغرب الشمس لقوله عليه السلام من ادرك ركعة من العصر قبل ان تغرب الشمس فقد ادركها (ج١ ص ۶۴ کتاب الصلوة) والله تعالى اعلم

كتبه : محمد احمد قادری
۲۶ ربیع الاول ۱۴۲۱ھ
الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

 

یہ بھی پڑھیں:

مردار کی کھال بعد دباغت بیچنا جائز ہے

بوقت غسل ماء مستعمل کے قطرات بالٹی میں پڑیں تو غسل کا کیا حکم ہے؟

شیئر کیجیے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔