بوقت غسل ماء مستعمل کے قطرات بالٹی میں پڑیں تو غسل کا کیا حکم ہے؟
مسئلہ زید ٹپ یا بالٹی وغیرہ میں غسل کرنے سے پر ہیز کرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ ٹپ وغیرہ میں غسل کرنے سے جسم وغیرہ پر پانی ڈالتے وقت استعمال شدہ پانی کے قطرے ٹپ یا بالٹی میں گرتے ہیں جس سے یہ پانی پاک کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے اس لیے بہتر ہے کہ شاور کے ذریعہ غسل کیا جائے جب کہ عمرو کا کہنا ہے کہ غسل کرتے وقت جو قطرات جسم سے ٹکرانے کے بعد ٹپ وغیرہ میں گرتے ہیں اس سے ٹپ یا بالٹی کا پانی پاک ہی رہتا ہے اس لیے غسل کرنا درست ہے دونوں میں سے کس کے قول پر عمل کیا جائے۔
المستفتی: قاری محمد فاروق مظاہری موریشش
بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
( جواب ) عمرو کا قول صحیح ہے کہ ٹپ یا بالٹی کا پانی پاک رہتا ہے اس سے غسل کرنا درست ہے گو کہ وقت غسل مستعمل پانی کے قطرات ٹپ یا بالٹی میں پڑتے ہوں اس لیے کہ مستعمل پانی اگر اچھے پانی میں مل چائے مثلاً وضو یا غسل کرتے وقت قطرے لوٹے یا ٹپ میں ٹپکیں تو حکم یہ ہے کہ اچھا پانی اگر زیادہ ہو تو یہ وضو اور غسل کے قابل ہے ورنہ سب بیکار ہو گیا ایسا ہی بہار شریعت ح ۲ ص ۴۹ پر ہے در مختار میں ہے یرفع الحدث بماء مطلق لا بماء مغلوب كمستعمل فبالا جزاء فأن المطلق اكثر من النصف جاز التطهير بالکل ( ج ۱ ص ۱۷۱ ۱۷۲) ظاہر ہے کہ غسل کرتے وقت ٹپ یا بالٹی کا پانی مستعمل پانی سے عموماً زائد ہی ہوتا ہے اس لیے اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
كتبه : محمد احمد مصباحی ۳۰ / رجب المرجب ۱۴۲۸ھ
الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح: محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
یہ بھی پڑھیں: