فجر کی قضا اگر زوال سے پہلے کرے تو سنت کی بھی قضا کرے بقیہ نمازوں میں صرف فرائض و واجبات کی قضا ہے ؟
حضور فقیہ ملت نور اللہ مرقدہ و دیگر مصنفین اپنی محررہ کتب میں تحریر فرماتے ہیں کہ اجالا ہو جانے سے فجر کا وقت شروع ہوتا ہے اور سورج نکلنے سے پہلے تک رہتا ہے جب کہ طلوع آفتاب کے کچھ دیر بعد یازوال سے پہلے جب نماز فجر پڑھنا چاہے تو غالباً حکم یہ ہے کہ فجر کی سنت و فرض دونوں پڑھی جائے حالانکہ دیگر نمازوں میں ختم اوقات کے بعد پڑھی جانے والی نماز صرف فرض یا وتر کی قضا پڑھی جاتی ہے تو ایسا کیوں؟ اور قبل زوال جو نماز فجر پڑھی جائے اگر اسی دن کی فجر ہے تو کیا قضا یا ادا کی نیت کی جائے گی باعتبارۂ محررہ مذکورہ نماز کی کس طرح زبان سے نیت کریں گے عرض یہ ہے کہ آسان لفظوں میں واضح فرمائیں۔
المستفتی: محمد اقلیم رضا قادری خادم الجامعۃ الرضویہ شمس العلوم ایل نمبر ٦٩٣ منگول پوری دہلی
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب
جب کسی کی نماز فجر قضا ہو جائے اور زوال سے پہلے اسے ادا کرنا چاہے تو حکم یہی ہے کہ فرض کے ساتھ ساتھ سنت کی بھی قضا کرے اور دوسرے اوقات کی نمازیں فوت ہو جائیں تو صرف فرائض ووتر کی قضا پڑھنے کا حکم ہے سنتوں کی قضا نہیں ۔ فقہا نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ فجر کی دو رکعت سنت قریب بواجب ہے اس لیے اگر زوال سے پہلے ادا کی جائے تو فرض کے ساتھ سنت کی بھی قضا پڑھنے کا حکم ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
سنة الفجر قيل انها قريبة من الواجب كذا فى التتارخانية ناقلاً عن النافع ( ج ا ص ۱۱۲ الباب التاسع في النوافل)
نیز سرکار علیہ الصلاۃ والسلام سے ایسا ہی ثابت ہے۔
فوت شدہ نماز فجر کی قضا اسی دن زوال سے پہلے پڑھی جائے تو بھی قضا کی نیت کی جائے گی اور ادا کی نیت کر لی پھر بھی قضا ہی ہوگی ، نہ کہ ادا۔
ردالمحتار میں ہے
يصح القضاء بنية الاداء (ج ۱، ص ۴۲۲،)
(مطلب يصح القضاء بنية الادا)
اور نیت دل کے پکے ارادہ کو کہتے ہیں مگر زبان سے کہنا مستحب ہے۔ زبان سے کرنا چاہے تو اس طرح کرے نیت کی میں نے آج کی دورکعت نماز فرض فجر قضا کی واسطے اللہ تعالی کے منہ میرا کعبہ شریف کی طرف اللہ اکبر۔
اور سنت فجر کی نیت اس طرح کرے کہ نیت کی میں نے آج کی دو رکعت نماز سنت فجر قضا کی اللہ تعالیٰ کے لیے سنت رسول اللہ کی منہ میرا کعبہ شریف کی طرف اللہ اکبر۔
اگر آج کی قضا ہو تو آج کی دورکعت کہیں گے اور کل کی ہو تو کل گزشتہ کی دورکعت۔
در مختار میں ہے
النية وهي الارادة المرجحة لا حد المتساويين والمعتبر فيها عمل القلب اللازم للارادة، والتلفظ عند الارادة بها مستحب هو المختار، (فوق رد المحتار ج ۱، ص ۴۱۴ – ۴۱۵ ، بحث النية) والله تعالى اعلم
كتبه: محمد وقار علی احسانی
٣٠شعبان المعظم ١٤٢٨ھ
الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
یہ بھی پڑھیں:
جمعہ کی اذان خطبہ کہاں ہونی چاہیے مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں یا خارج مسجد منبر کے سامنے
قبل اذان واقامت درود شریف مستحسن ہے
کیا لاؤڈ اسپیکر کی اذان کا جواب اور اس پر خاموشی ضروری ہے ؟
مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں جمعہ کی اذان خطبہ کب شروع ہوئی اور کس نے شروع کی
داخل مسجد اذان ہونے پر امت کا اجماع نہیں ہوا
اجماع کب اور کس کا معتبر ہے نیز اجماع کی اقسام
چودہ سو سال میں کتنے مسائل پر امت کا اجماع ہوا
چودہ سو سال میں کتنی سنتیں مردہ ہوئیں اور انہیں کس کس نے زندہ کیا
اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں ڈالنا اور دائیں بائیں چہرہ پھیرنا کیسا ہے
اذان کے آگے یا پیچھے کچھ الفاظ کا اضافہ کرنا کیسا ہے