چودہ سو سال میں کتنے مسائل پر امت کا اجماع ہوا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ
چودہ سو سال میں کتنے مسائل پر امت کا اجماع ہوا؟ اس کی کوئی تفصیل کتب دینیہ میں موجود ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا ؟
المستفتی : عبد الرشید قادری پیلی بھیتی
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب
صاحب مسلم الثبوت علامہ محب اللہ بن عبد الشکور بہاری علامہ اسفرینی کے حوالہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اجماع کے مسائل بیس ہزار سے زائد ہیں اور شارح مسلم الثبوت علامہ عبد العلی محمد بن نظام الدین انصاری کے فرمان کے مطابق تمام اجماعی مسائل کا علم دشوار یا محال ہے چنانچہ آپ فواتح الرحموت میں تحریر فرماتے ہیں۔
قال: الا سفر اینی: نحن نعلم أن مسائل الاجماع اكثر من عشرين ألف مسألة هذا وقد يقال ان العلم بالاجماع على طريق النقل مستحيل أو متعتسر فأن معرفة الناقل اعيان العلماء المتفرقين ثم اتفاقهم على الحكم مع احتمال كذب كل في كونه مختاراً ورجوع كل قبل فتوى الآخر وعدم الاظهار خوفاً مستحيل عادة … نعم لا يمكن معرفة الاجماع ولا النقل الآن لتفرق العلماء شرقاً وغرباً ولا يحيط بهم علم أحد فقد بان لك أن ما ذكره هذا القائل مغلطة في غاية السقوط لا يلتفت اليه فأفهم ملخصاً. (ج۲ ص ۲۶۸-۲۶۹) والله تعالیٰ اعلم
کتبه: محمد محسن مصباحی
١٥ ذو الحجہ ١٤٣٢ھ
الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
یہ بھی پڑھیں:
جمعہ کی اذان خطبہ کہاں ہونی چاہیے مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں یا خارج مسجد منبر کے سامنے
قبل اذان واقامت درود شریف مستحسن ہے
کیا لاؤڈ اسپیکر کی اذان کا جواب اور اس پر خاموشی ضروری ہے ؟
مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں جمعہ کی اذان خطبہ کب شروع ہوئی اور کس نے شروع کی