داخل مسجد اذان ہونے پر امت کا اجماع نہیں ہوا

داخل مسجد اذان ہونے پر امت کا اجماع نہیں ہوا

داخل مسجد اذان ہونے پر امت کا اجماع نہیں ہوا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ
کیا اس اذان کے مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں ہونے پر امت کا اجماع ہو چکا ہے؟ اگر ہو چکا ہے تو یہ اجماع کب ہوا اور جمہور نے اس کو کس نظر سے دیکھا؟
اگر آج کوئی اس اذان خطبہ کے مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں ہونے پر اجماع کا دعوئی کرے تو اس کا یہ دعوئی شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟

المستفتی : محمد عبد الرشید قادری پیلی بھیتی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب

مذکورہ بالا حدیث اور فقہائے کرام کے اقوال سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ داخل مسجد اذان ہونے پر امت کا اجماع نہیں ہوا ہے اور یہ اجماع کیسے ہو سکتا ہے جب کہ حدیث مبارک میں خارج مسجد اذان پڑھنے کی صراحت موجود ہے اور اجماع اس وقت ہوتا جب قرآن وحدیث میں اس کا ثبوت نہ ملتا۔ اور اگر نہ اور اگر اجماع ہوتا تو فقہائے کرام اس کے خلاف ہر گز عمل نہ کرتے جب کہ اجماع امت بھی قرآن وحدیث کی طرح واجب العمل ہے لہٰذا نہ داخل مسجد اذان ہونے پر اجماع ہوا اور نہ اجماع کا دعویٰ کرنا درست ہے۔ واللہ تعالی اعلم

کتبه: محمد محسن مصباحی
١٥ ذو الحجہ ١٤٣٢ھ

الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

یہ بھی پڑھیں:

جمعہ کی اذان خطبہ کہاں ہونی چاہیے مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں یا خارج مسجد منبر کے سامنے

قبل اذان واقامت درود شریف مستحسن ہے

کیا لاؤڈ اسپیکر کی اذان کا جواب اور اس پر خاموشی ضروری ہے ؟

مسجد کے اندر سب سے اگلی صف میں جمعہ کی اذان خطبہ کب شروع ہوئی اور کس نے شروع کی

شیئر کیجیے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔