بعد فرض بآواز بلند کلمہ طیبہ کی تکرار کرنا کیسا ہے
مسئلہ۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان دین وملت اس مسئلہ میں کہ فرض نماز کے بعد بآواز بلند کلمہ طیبہ کا تین بار ذکر کرنا کیسا ہے حالانکہ جس کی کچھ رکعتیں چھوٹ جاتی ہیں وہ بعد میں پوری کرتے ہیں تو ان کی نماز میں
اس ورد سے خلل بھی ہو سکتا ہے تو اس ورد کے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
المستفتی: حبیب الرحمن امجدی کمبولی بھروچ ، گجرات
بسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ
الجواب:
سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اللہ اکبر پڑھنا ثابت ہے مگر یہ منقول نہیں کہ آپ کتنی بار پڑھتے تھے جس سے ظاہر یہ ہے کہ ایک بار پڑھتے تھے۔ مسلم شریف میں ہے
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:
ما كنا نعرف انقضاء صلوة رسول الله صلى الله علیه وسلم بالتكبير
( ج ۱ ص ۲۱۷ ، باب الذكر بعد الصلوة)
اس لیے ایک بار کی اجازت تو حدیث پاک سے ثابت ہے اور تین بار میں بھی حرج نہ ہونا چاہیے مگر اب عموما نمازوں میں مسبوقین بھی ہوتے ہیں اس لیے ایک بار سے زیادہ تکبیر بلند آواز سے نہ پڑھیں کہ ان کی نمازوں میں خلل واقع ہوگا اور قلیل بہر حال عفو ہے اور پورا کلمہ طیبہ کثیر ہے اس لیے اس کے بجائے تکبیر ہی پراکتفا کریں۔
اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ رقم طراز ہیں:
ایسا جہر جس سے کسی کی نماز یا تلاوت یا نیند میں خلل آئے یا مریض کو ایذا پہونچے ناجائز ہے۔ (فتاوی رضویہ ج ۹، ص:١٢٦ نصف آخر )
نیز دوسرے مقام پر آپ تحریر فرماتے ہیں :
جہاں کوئی نماز پڑھتا ہو یا سوتا ہو کہ باآواز پڑھنے سے اس کی نماز یا نیند میں خلل آوے گا وہاں قرآن مجید یا وظیفہ ایسی آواز سے پڑھنا منع ہے، مسجد میں جب اکیلا تھا اور بآواز پڑھ رہا تھا جس وقت کوئی شخص نماز کے لیے آئے فورا آہستہ ہو جائے (فتاوی رضویہ ج ۳ ص ۵۹۷ ، باب احکام المسجد )
یہ جہر کثیر پر محمول ہے کہ وہی مخل ہے۔ واللہ تعالی اعلم
كتبه : محمد وقار علی احسانی ۷۱محرم الحرام ۱۴۲۹ھ
الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح: محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
یہ بھی پڑھیں:
مسافر نے مقیم کے پیچھے آخر کی دورکعتیں یا ایک رکعت یا صرف قعدہ اخیرہ پایا تو نماز کیسے پوری کرے؟
حضور نے نماز میں درود شریف پڑھا یا نہیں؟
امام تراویح کے نذرانہ کے لئے چندہ ہوا اسے مسجد و مدرسہ میں لگا سکتے ہیں؟