جس نیک کام کے لئے لوگوں نے چندہ دیا دیانت کے ساتھ چندہ کی رقم اسی میں صرف کریں

امام تراویح کے نذرانہ کے لئے چندہ ہوا اسے مسجد و مدرسہ میں لگا سکتے ہیں؟

مسٸلہ :امام تراویح کے نذرانہ کے لئے چندہ ہوا اسے مسجد و مدرسہ میں لگا سکتے ہیں؟ قرآن پاک رمضان کی کس شب میں ختم کیا جائے؟ اور روزانہ کتنا پڑھا جائے؟ مقتدیوں کا روزانہ ایک معین مقدار پڑھنے کا دباؤ بنانا کیسا ہے؟

مسئلہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین وملت اس مسئلہ میں:

(۱) رمضان المبارک میں ختم القرآن وتراویح یا قرآن سننے سنانے والے حفاظ کرام کے نذرانے کے نام پر جو رقم یا پیسہ عوام وخواص مسلمین سے وصول کر کے اکٹھا کیا جاتا ہے اس رقم اور پیسہ کو ان حفاظ کرام پر صرف کرنے کے ساتھ ہی ساتھ یا بعد میں کچھ رقم مسجد و مدرسہ اور قبرستان کے کسی کام میں صرف کرنا یا مسجد کے بجٹ میں ڈال دینا کہ کبھی مسجد کے کام آئے گی شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اور ایسا کرنے والے افراد پر شرعا کوئی حکم عائد ہوتا ہے یا نہیں؟ اسی طرح جو رقم مسجد کے نام سے اکٹھا کی گئی ہو اسے حافظ حضرات کے نذرانے میں دینا شرعاً کیسا ہے؟

(۲) یہ امر تو اپنی جگہ مسلم ہے کہ پورے رمضان میں نماز تراویح میں ایک قرآن کا ختم کرنا سنت موکدہ ہے لیکن قرآن پاک کب اور رمضان کی کس تاریخ میں ختم کیا جاۓ اور روزانہ نماز تراویح میں کتنا قرآن عظیم پڑھا جاۓ اس کی کوئی معین مقدار سنت رسول اور سنت صحابہ سے اٸمہ مجتہدین تک ثابت ہے یا نہیں اگر نہیں تو امام کو اس بات پر مجبور کرنا کہ سات یا گیارہ رمضان کو قرآن پاک ختم کرنا ہوگا ورنہ آپ اس مسجد میں قرآن سننے سنانے کے مجاز نہیں ہوں گے شرعا کیسا ہے؟ بالخصوص ایسی صورت میں کہ امام کی صحت اتنی جلد قرآن ختم کرنے کی متحمل نہ ہو؟

(۳) اسی طرح متولی مسجد یا مصلیان مسجد کا امام پر یہ قید لگا دینا کہ آپ کو اتنے دن نماز تراویح میں اتنا قرآن اور اتنے دن روزانہ اتنا قرآن پڑھنا ہوگا اور امام ویسا ہی کرے جیسا کہ متولی یا مصلیان مسجد نے کہا تو کیا شرعا یہ نماز درست ہوگی؟ فقہ حنفی کی بہت سی کتابوں میں آیا ہے کہ کسی آنے والے کی خاطر نماز کو طول دینا مکروہ تحریمی ہے اور پھر نماز کے داخلی امور میں امام کا متبع غیر اللہ و رسول جل جلالہ وصلی اللہ علیہ وسلم ہونا کراہت نماز کا باعث ہوگا یا نہیں؟ آیا متولی اور مصلیان مسجد کا امام پر اس طرح کی قیدیں لگانا کیا حکم رکھتا ہے؟

المستفتی: عبدالرشید قادری ضلع پیلی بھیت، یوپی

بسم الله الرحمن الرحيم

الجوب:

(1) جس نیک کام کے لئے لوگوں نے چندہ دیا دیانت کے ساتھ چندہ کی رقم اسی میں صرف کریں اگر صرف نہ
ہو تو لازم ہے کہ جس جس سے جتنا لیا ہے ہر ایک کو اتنا اتنا واپس دے یا ان کی اجازت ہو تو کسی اور جائز کام میں صرف کرے اور اگرکسی کام کے لئے چند لوگوں سے چندہ لیا اس میں صرف کرنے کے بعد کچھ بچ رہا تو حساب کر کے حصہ رسد واپس دے۔ ایساہی قتاوی مصطفویہ ص ۴۴۴ میں ہے۔ لھذا رمضان المبارک میں ختم القرآن و تراویح یا قرآن سننے سنانے والے حفاظ کرام کے نذرانے کے نام پر جو رقوم وصول کر کے اکٹھا کی جاتی ہیں ان میں سے کچھ رقم مسجد کے بجٹ یا دیگر امور خیر میں صرف کرنا شرعاً درست نہیں ہاں اگر چندہ دہندگان سے اس کی اجازت لے لی گئی ہو یا اگر صراحة اجازت نہ ہو لیکن عوام و خواص جانتے ہوں کہ بقیہ رقم مسجد یا مدرسہ یا قبرستان وغیرہ امور خیر میں لگا دی جائے گی تو جائز ہے ورنہ نہیں کیونکہ چندہ چندہ دہندگان کی ملک میں رہتا ہے اس لئے ان کی اجازت کے بغیر تصرف نا جائز ہے۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ (ج ٦ ص ۳۴۰) میں ہے۔

در مختار میں ہے:

إن لم يكن بيت المال معموراً و منتظماً فعلى المسلمين تكفينه فأن لم يقدروا سألوا الناس له ثوبا فأن فضل شيء رد للمصدق ان علم والا کفن به مثله والا تصدق به. ملخصا ( ج ۳ ص : ۱۰۱)

جو رقم مسجد کے نام سے اکٹھا کی گئی ہو اسے حافظ حضرات کے نذرانے میں دینا جائز نہیں کہ عموماً مسجد کے نام کا چندہ مسجد کی تعمیر اور تیل بتی کے لئے ہوتا ہے۔ حفاظ کرام کے نذرانے کا چندہ الگ سے کیا جاتا ہے۔ واللہ تعالی اعلم

(۲) قرآن پاک کو ستائیسویں شب میں ختم کرنا مستحب ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وينبغي للامام اذا اراد الختم ان يختم فى ليلة السابع والعشرين كذا في المحيط ( ج ا ص ۱۱۸)

کم از کم ۲۰۰ آیتیں نماز تراویح میں ہر شب پڑھنا مسنون ہے۔

فتاوی خانیہ میں ہے:

وقال بعضهم وهو رواية الحسن عن ابي حنيفة رحمه الله تعالى يقرأ في كل ركعة عشر آيات وهو الصحيح لان فيه تخفيفا على الناس و به تحصل السنة و هي الختم مرة واحدة (ج۱ ص ۲۳۷ فصل في تعداد القرأة في التراويح)

نیز اسی میں ہے:

وفي غير هذا البلد كانت المصاحف معلمة بعشر من الآيات وجعلوا ذلك ركوعا ليقرا في كل ركعة من التراويح القدر المسنون ” ( ج ۱ ص ۲۳۹ باب التراويح)

لہذا امام کو اس بات پر مجبور نہ کرنا چاہئے کہ سات یا گیارہ رمضان کو قرآن ختم کریں اور اگر انتظامیہ مجبور کرے تو امام مجبور نہ ہو وہ دست کش ہو جائے ۔ امام تراویح اجیر نہیں ہوتا خالص رضائے الہی کے لئے قرآن سناتا ہے اس لئے یہاں مجبور کرنے اور مجبور ہونے کا سوال نہیں ہے۔ ہاں افضل یہ ہے کہ اتنی مقدار قرآن کریم تراویح میں پڑھے جو مصلیان کے لئے ان کی سستی کے سبب جماعت سے نفرت کا باعث نہ ہو کیونکہ جماعت کی کثرت قرآت کی درازگی سے افضل ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

الافضل في زماننا ان يقرأ بما لا يودى الى تنفير القوم عن الجماعة لكسلهم لان تكثير الجمع افضل من تطويل القراءة كذا في محيط السرخسى ( ج۱ ص۱۱۸) والله تعالی اعلم

(۳) امامت کے اس طرح کے امور میں انتظامیہ کو ہرگز دخل نہ دینا چاہئے بلکہ یہ سب امام کی صواب دید پر چھوڑ دینا چاہئے ہاں اگر امام قرآت بہت طویل کر دے جو نمازیوں کے لئے اکتاہٹ اور پریشانی کا باعث ہو اس لئے انتظامیہ اس میں تخفیف کا مشورہ دے تو اس کی گنجائش ہے۔ اور بلا وجہ اس طرح کا مشورہ بھی نہ دے کہ یہ انتظامیہ کا کام نہیں اور امام پر اس کے لئے دباؤ بنانا تو نا مناسب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ: محمد اكبر على المصباحی
۵ ذی الحجه ۱۴۳۱ھ
الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی

الجواب صحیح: محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

 

یہ بھی پڑھیں:

کیا ایک ہی شخص تراویح میں ایک جگہ بحیثیت سامع اور دوسری جگہ بحیثیت امام شرکت کر سکتا ہے؟

تراویح کی نماز گھر دکان میدان میں قائم کرنا کیسا ہے

ختم قرآن کے تراویح کی آخری رکعت میں الحمد، سورہ ناس پھر الحمد پڑھتے ہیں کیا یہ صحیح ہے؟

 

شیئر کیجیے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔