کیا ایک ہی شخص تراویح میں ایک جگہ بحیثیت سامع اور دوسری جگہ بحیثیت امام شرکت کر سکتا ہے؟

کیا ایک ہی شخص تراویح میں ایک جگہ بحیثیت سامع اور دوسری جگہ بحیثیت امام شرکت کر سکتا ہے؟

مسئلہ : کیا ایک ہی شخص تراویح میں ایک جگہ بحیثیت سامع اور دوسری جگہ بحیثیت امام شرکت کر سکتا ہے؟

مسئله ایک حافظ قرآن نماز تراویح کی پہلی جماعت میں بحیثیت سامع قرآن پاک کی سماعت کرتا ہے پھر وہی سامع نماز تراویح کی دوسری جماعت میں اسی رات بحیثیت امام با ضابطہ امامت بھی کرتا ہے۔ اس کا یہ کہنا ہے کہ نماز تراویح کی پہلی جماعت میں میری نیت نفل کی ہوتی ہے۔ جبکہ دوسری جماعت کی امامت کرتے ہوئے نماز تراویح سنت موکدہ کی نیت کرتا ہوں۔

صورت مسئولہ میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ نماز تراویح جو کہ سنت مؤکدہ ہے اسے چھوڑ کر نفل کی نیت سے کسی ایسے امام کی اقتدا کرنا جو تراویح پڑھا رہا ہو اور اسی جماعت میں بحیثیت سامع لقمہ دینا جائز ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں ہے تو پھر دوسری جماعت میں پڑھی جانے والی نماز تراویح کا شرعاً کیا حکم ہے؟ تفصیلاً بیان فرمائیں؟

المستفتی: حاجی سعود ملک ، گلاس کو، برطانیہ

بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

الجواب:

امام کو ایسا نہ کرنا چاہئے لوگ سوچیں گے کہ دونوں جگہ کے نذرانہ لینے کی لالچ میں امام صاحب ایسا کر رہے ہیں اس سے مقتدیوں کی نگاہ میں امام کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ کی حقیقت یہ ہے کہ جو شخص نماز تراویح کی پہلی جماعت میں بحیثیت سامع قرآن پاک کی سماعت کرتا ہے اور دوسری جماعت میں امامت کرتا ہے وہ اگر جماعت اولی میں تراویح کی نیت نہیں کرتا بلکہ محض نفل کی نیت سے شامل ہوتا ہے اور جماعت ثانیہ میں سنت مؤکدہ تراویح کی نیت سے شامل ہوتا ہے تو جائز ہے اس طرح کی نماز کا ثبوت حدیث پاک سے ہے۔

بخاری شریف میں ہے:

عن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنه قال معاذ رضى الله تعالى عنه يصلى مع النبي صلى الله تعالى عليه وسلم ثم ياتى قومه فيصلى بهم ..

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکار اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اقتدا میں نماز پڑھ کر اپنی قوم کے پاس آتے تھے اور انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے (ج ۱: ص: ۲۲)

عمدۃ القاری میں ہے :

و من الجائز ان يكون معاذ كان يجعل صلاته معه صلى الله تعالى عليه وسلم بنية النفل ليتعلم سنة القراءة منه وافعال الصلوة ثم يأتى قومه فيصلى بهم صلاة الفرض… (ج:۵،ص: ٢٣٦)

لہذا شخص مذکور کا نفل کی نیت سے تراویح کی جماعت اولی میں سامع کی حیثیت سے اور تراویح کی نیت سے جماعت ثانیہ میں امام کی حیثیت سے رہنا جائز ہے اور جب جماعت اولی میں سامع کی حیثیت سے شامل ہوسکتاہے تو وہ امام کو لقمہ بھی دے سکتا ہے کیونکہ لقمہ دینے کے لئے امام کے ساتھ نمازمیں شریک ہونا شرط ہے۔ یہ شرط نہیں کہ جس قسم کی نماز امام کی ہواسی قسم کی نماز مقتدی کی بھی ہو۔

ردالمحتار میں ہے:

(بخلاف فتحه علی امامه) فأنه لا يفسد (مطلقا) لفاتح واخذ بكل حال۔(ج:۲،ص:٨٢)

لیکن امام اس طریقے سے احتراز کرے تو بہتر ہے تاکہ لوگ اس کے بارے میں بدگمان نہ ہوں اور دوسرے لوگ جو تصحیح نیت پر قادر نہ ہوں یا نیت کا یہ فرق نہیں جانتے ایسا نہ کریں۔ واللہ تعالی اعلم

كتبه : غلام مرتضی رضوی

٧/صفر المظفر ۱۴۳۰ھ
الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی

الجواب صحیح: محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

یہ بھی پڑھیں:

تراویح کی نماز گھر دکان میدان میں قائم کرنا کیسا ہے

ختم قرآن کے تراویح کی آخری رکعت میں الحمد، سورہ ناس پھر الحمد پڑھتے ہیں کیا یہ صحیح ہے؟

شیئر کیجیے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔