تراویح کی نماز گھر دکان میدان میں قائم کرنا کیسا ہے

تراویح کی نماز گھر دکان میدان میں قائم کرنا کیسا ہے

مسئلہ: تراویح کی نماز گھر دکان میدان میں قائم کرنا کیسا ہے؟ کیا مسجد کی ہر منزل پر یا ایک ہی منزل پر باری باری تراویح کی چند جماعتیں ہو سکتی ہیں؟ عشا پڑھے بغیر تراویح پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ امام تراویح کو ہدیہ دینا لینا کیسا ہے؟

مسئله : رمضان المبارک میں مسلمان مسلک حنفی کے افراد نماز تراویح کا با جماعت گھروں میں مکانوں کی چھتوں پر، میدانوں میں اہتمام کرتے ہیں، اس اہتمام کو کئی افراد خدمت سمجھ کر کئی گھروں میں خیر و برکت، شہرت، جلد ختم قرآن وتراویح پڑھ لینے یا فراغت پا جانے خرید وفروخت کاروبار وغیرہ اسباب کو مدنظر رکھ کر نماز تراویح کا یہ رواج عام ہوتا جارہا ہے۔ دریافت طلب امور درج ذیل میں مفصل روشنی ڈالیں مشکور ہوں گا؟

(الف) ان افراد، امام اور مقتدیوں کی نماز درست ہوگی؟

(ب) مسجد قریب ہو تو بھی یہ عمل جائز ہے یا پھر کتنی دوری پر یہ جائز ہے؟

(ج) سال بھر ایسے لوگ مسجدوں میں نہیں آتے با جماعت نماز تراویح گھروں میں پڑھتے ہیں کیا یہ عمل درست ہے؟

(د) مسجد کے ہر تلہ (Floor فلور) پر یا ایک ہی مقام پر الگ الگ وقتوں میں نماز تراویح کا اہتمام کیا جاسکتا ہے؟ کیا با جماعت تراویح کے لیے نماز عشاء کا ساتھ پڑھنا لازم ہے؟

(ہ) نماز تراویح پڑھانے والے امام کو ہدیہ طے کر لینا جائز ہے تحفہ تحائف قبول کرنا جائز ہے، یا کچھ ملے گا ایسی نیت رکھنا جائز ہے؟ بینوا و تو جروا

المستفتى : محمد اقبال کلکتہ (بنگال)

بسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

الجواب :

(الف – ب – ج ) جولوگ سال بھر مسجد میں نہیں آتے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ بالکل ہی نماز نہیں پڑھتے ہیں، جب کہ ہر مکلف یعنی عاقل بالغ پر نماز فرض عین ہے جو بلا عذر شرعی ایک بار بھی قصداً چھوڑے وہ فاسق و مرتکب کبیرہ مستحق عذاب نار ہے، درمختار کتاب الصلوۃ میں ہے

هى فرض عین علی كل مكلف بالاجماع ” اهـ ( ج۱ ص ۳۵۱)

یا پڑھتے تو ہیں مگر جماعت ترک کر کے گھر ہی میں پڑھ لیتے ہیں تو ایسے لوگ فاسق مردود الشہادہ ہیں،

فتاوی عالمگیری فصل فی الجماعة میں ہے:

تجب على الرجال العقلاء البالغين الاحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج اھ (ج۱ ص ۸۲)

لہذا مذکورہ صورتوں میں نماز تراویح ہو تو جائے گی مگر تراویح میں جماعت سنت کفایہ ہے اس لئے اگر مسجد کے سب لوگ چھوڑ دیں گے تو سب گنہگار ہوں گے۔

بہار شریعت میں ہے:

تر اویح مسجد میں باجماعت پڑھنا افضل ہے اگر گھر میں جماعت سے پڑھی تو جماعت کے ترک کا گناہ نہ ہوا مگر وہ ثواب نہ ملے گا جو مسجد میں پڑھنے کا تھا اھ ( ج۴ ص 33)

فتاوی عالمگیری فصل فی التراویح میں ہے:

وان صلى بجماعة في البيت اختلف فيه المشايخ والصحيح ان للجماعة في البيت
فضيلة وللجماعة في المسجد فضيلة اخرى فأذا صلى في البيت بجماعة فقد حاز فضيلة ادائها بالجماعة وترك الفضيلة الأخرى هكذا قاله القاضى الامام ابو على النسفى اھ (ج۱ ص١١٦)

و ردالمحتار مبحث صلاة التراویح میں ہے

وان صلی احد فى البيت بالجماعة لم ينالوا فضل جماعة المسجد ا ھ ( ج ۲ ص ۴۵)

البتہ وہ شخص کہ جس کا گھر مسجد سے قریب ہے اسے مسجد میں ہی تراویح کی نماز پڑھنے کا التزام کرنا چاہیے کیوں کہ گھر میں وہ ثواب نہیں ملے گا جو مسجد میں پڑھنے کا ہے۔ واللہ تعالی اعلم

(د) صورت مسئولہ میں مسجد کی ہر منزل یا ایک ہی مقام پر الگ وقتوں میں نماز تراوتح باجماعت ادا کرنا جائز ہے جب کہ عذر شرعی ہو مثلا مسجد میں جگہ کی تنگی ہو یا اس طرح کا اور کوئی عذر ہو اور اگر بلا عذر شرعی جماعت اولی چھوڑ کر الگ جماعت قائم کی جائے تو گناہ ہے۔

فتاوی رضویہ باب الجماعت میں ہے:

قصدا بلا وجہ شرعی تفریق جماعت ضرور موجب ذم و شناعت خواہ یوں کہ امام معین سے پہلے پڑھ جائیں یا جماعت اولی فوت کر کے اپنی جماعت الگ بنائیں اھ (ج۳ ۳۵۴)

ردالمحتارمیں ہے:

اذا صلی في مسجد المحلة جماعة بغير اذان يباح إجماعاً ۱ھ (ج۱ ص ۵۵۳)

تراویح با جماعت ہو یا بے جماعت فرض عشاء کے بعد ہی اس کا وقت ہوتا ہے اس لیے بغیر فرض عشاء
پڑھے ہوئے تراویح جائز نہیں،

بہار شریعت میں ہے:

اس (تراویح ) کا وقت فرض عشاء کے بعد ہے ۱ھ ملخصا (ح٤ص۳۳)

لہذا اگر کسی کی جماعت عشاء چھوٹ گئی تو وہ پہلے عشاء کی فرض نماز ادا کرے اس کے بعد تروایح کی جماعت میں شریک ہو ، ہاں وتر تنہا پڑھے

فتاوی عالمگیری « فصل فی التراویح ؛ میں ہے:

والصحيح ان وقتها ما بعد العشاء – ۱ھ( ج۱ ص ۱۱۵) واللہ تعالی اعلم

(ہ) صورت مسئولہ میں ہدیہ لینا اور دینا دونوں نا جائز و سخت گناہ ہے، اور یہ نیت رکھنا کہ کچھ ملے گا اور اسے معلوم ہے کہ یہاں پہلے سے کچھ دینے کا رواج ہے تو بھی نا جائز ہے کہ فقہاء فرماتے ہیں

المعروف عرفاً كالمشروط لفظاً.

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمة والرضوان تحریر فرماتے ہیں

کہ آج کل رواج ہو گیا ہے کہ حافظ کو اجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ نا جائز ہے، دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں، اجرت صرف یہی نہیں کہ پیشتر مقرر کر لیں کہ یہ لیں گے یہ دیں گے بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے اگر اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی نا جائز ہے کہ المعروف کالمشروط ہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گایا نہیں لوں گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ الصريح يفوق الدلالة – ۱ھ(بہار شریعت ح۴ ص ۳۵) واللہ تعالی اعلم

کتبہ: محمد نیاز برکاتی مصباحی، 21 محرم ۱۴۲۵ھ

الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح: محمد ابرار احمد

یہ بھی پڑھیں:

مردار کی کھال بعد دباغت بیچنا جائز ہے

بوقت غسل ماء مستعمل کے قطرات بالٹی میں پڑیں تو غسل کا کیا حکم ہے؟

شیئر کیجیے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔