حرمین شریفین میں حنفیوں کی نماز عصر مثل ثانی میں ہوگی یا نہیں ؟
مسئلہ:کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ حرمین شریفین میں عصر کی نماز بحساب مثل یعنی احناف کے نزدیک وقت ظہر میں ہوتی ہے کیا احناف کی نماز جائز ہوگی
المستفتی: محمد سمیع انصاری نوری رضوی گورکھپوری
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب :
اگر چہ صحیح ومعتمد قول امام ہے کہ مثل ثانی میں عصر پڑھنے سے ادا نہ ہوگی فرض ذمہ پر باقی رہے گا مگر صاحبین کے مذہب پر ہو جائے گی، اور قول صاحبین پر بھی فتوی دیا گیا ہے اس لیے جس قول پر عمل کیا جائے گا ہو جائے گا مگر اختر از اولی ہے، ہاں اگر یہ جانے کہ جماعت ہونے کے بعد میرے ساتھ کوئی نہ ہوگا تو جماعت میں شریک ہو جائے ، پھر وقت ہونے پر اکیلے عصر کی نماز ادا کر لے، ایسا ہی الملفوظ حصہ اول ص ۲۷/۲۶ پر ہے۔
پھر فتاوی رضویہ میں ہے:
بے شمار کتب ائمہ میں تصریح ہے اس وقت عصر کا پڑھنا بے احتیاطی ہے پس محتاط فی الدین کولازم کہ اگر جانے کہ مجھے مثل ثانی کے بعد جماعت مل سکتی ہے اگر چہ ایک ہی آدمی کے ساتھ تو اس جماعت باطلہ یا کم از کم مکروہ بکراہت شدیدہ میں شریک نہ ہو بلکہ وقت اجماعی پر اپنی جماعت صحیحہ نظیفہ ادا کرے، اگر جانے کی پھر میرے ساتھ کوئی نہ ملے گا تو بتقلید صاحبین شریک جماعت ہو جائے اور تحصیل صحت متفق علیہا ورفع کراہت کے لیے مثل ثانی کے بعد پھر اپنی تنہا ادا کرے؛ ١ھ ( ج ۲ ص ۲۱۳)
مگر یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ امام سنی صحیح العقیدہ حنفی ہو، اور وہاں تو نجدیوں کی حکومت ہے امام حرمین شریفین بھی نجدی ہی ہوتے ہیں، لہذا ان کی اقتداء میں سرے سے نماز ہی نہ ہوگی خواہ وہ مثل ثانی میں عصر پڑھیں یا اس کے بعد اس لیے مذہب حنفی کی رو سے وقت ہو جائے اور ان کی جماعت ختم ہو جائے تو خود الگ سے اپنی جماعت کر لیں یا پھر تنہا پڑھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
كتبه : محمد صابر حسین فیضی
۱۴ /ذی القعده ، ۱۴۲۵ھ
الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح: محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
یہ بھی پڑھیں:
مردار کی کھال بعد دباغت بیچنا جائز ہے
بوقت غسل ماء مستعمل کے قطرات بالٹی میں پڑیں تو غسل کا کیا حکم ہے؟