مغرب میں دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہ تنزیہی اور بلا عذراتنی تاخیر کہ ستارے گتھ جائیں تحریمی ہے۔
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے یہاں رمضان میں مغرب کی اذان کے دس منٹ بعد افطار وکھانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے کیا مغرب کی اذان کے بعد اتنی تاخیر جائز ہے ؟
المستفتی: محمد احمد رسول آباد سلطان پور
بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الجواب
نماز مغرب میں دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہ تنزیہی اور بغیر عذر اتنی تاخیر کی کہ ستارے گتھ جائیں مکروہ تحریمی ہے سفر میں ہو یا بھوکا ہو اور اگر کھانا سامنے حاضر ہو تو یہ تاخیر کے لے عذر ہے در مختار میں ہے:
واخر المغرب الى اشتباك النجوم) ای كثرتها (کره) اى التأخير لا الفعل لانه مأمور به (تحريما) الابعذر كسفر و كونه على اكل اھ
رد المحتار میں ہے:
”و ان ما في القنية من اشتباك النجوم مكروه تنزيها وما بعده تحريما الا بعذر اھ (ص ٣٦٩ ج ۱ )
ایسا ہی بہار شریعت ص ۲۰ ج ۳ میں بھی ہے۔ تاہم دس منٹ سے زیادہ تاخیر سے گریز کرنا چاہیے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
كتبه : محمد ابو بکر مصباحی
۱۰/شعبان المعظم ۱۴۲۷ھ
الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
یہ بھی پڑھیں:
مردار کی کھال بعد دباغت بیچنا جائز ہے
بوقت غسل ماء مستعمل کے قطرات بالٹی میں پڑیں تو غسل کا کیا حکم ہے؟