غیر مسلموں کو برتن کرایہ پر دینا کیسا ہے؟
مسئلہ : فاسقوں اور غیر مسلموں کے یہاں شادی وغیرہ کے موقع پر برتن وغیرہ کرایہ پر دینا کیسا ہے جبکہ غالب گمان ہو کہ اس میں فاسقوں کی دعوت کی جائے گی بعدہ کتے وغیرہ بھی چاٹیں گے؟
المستفتی :فاروق احمد چلبلا نہوالی الہ آباد
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب
فاسقوں اور غیر مسلموں کے یہاں شادی وغیرہ کے موقع پر برتن وغیرہ کرائے پر دینا جائز ہے اس لیے کہ ان کے ان برتنوں میں کھانے سے برتن میں نجاست سرایت نہیں کرتی ہے اور جو نجاست بھی ہے دھونے سے برتن پاک ہوجاتا ہے مگر تقویٰ احتراز میں ہے اس لیے کہ ہندوستان کے غیر مسلموں کے بارے میں مشاہدہ ہے کہ عموما سخت نا پاکیوں میں آلودہ رہتے ہیں حتی کہ گائے کے پیشاب اور گوبر کو بھی پاک اور پاک کرنے والا مانتے ہیں جو نجس العین ہے ہاں اگر یہ غالب گمان ہو کہ برتن جوٹھا چھوڑ دیں گے جسے کتے وغیرہ
چاٹیں گے تو نہ دیں کہ برتن کو تنجیس سے بچانا واجب ہے واللہ تعالیٰ اعلم
كتبه : محمد ارشد نظامی مصباحی ۱۱/ صفر ۱۴۲۴ھ
الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
یہ بھی پڑھیں:
مردار کی کھال بعد دباغت بیچنا جائز ہے
بوقت غسل ماء مستعمل کے قطرات بالٹی میں پڑیں تو غسل کا کیا حکم ہے؟