مردار کی کھال بعد دباغت بیچنا جائز ہے
مسئلہ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین کہ زید کی بھینس مر گئی تو بھنگیوں سے چمڑا نکلوا کر نمک لگا کر چند روز بعد مسلمان کے ہاتھ فروخت کر لیا اب یہ روپیہ اپنے خرچ میں لا سکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ بہار شریعت ص ١٠٧ ح۲ پر یہ لکھا ہے کہ مردار جانور کی کھال سکھانے سے پاک ہو جاتی ہے خواہ اس کو کھاری نمک وغیرہ کسی دوا سے پکایا ہو یا فقط دھوپ یا ہوا میں سکھا لیا ہو اور اس کی تمام رطوبت فنا ہو کر بدبو جاتی رہی ہو کہ دونوں صورتوں میں پاک ہو جائے گی اس پر نماز درست ہے اور ص۹۰ ح ۱۱ میں ہے کہ مردار کے چمڑے کی بھی بیع باطل ہے جبکہ پکایا نہ ہو اور دباغت کرلی ہو تو بیع جائز ہے اور اس کو کام میں لانا بھی جائز ہے؟ مذکورہ عبارتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صورت جواز کی ہے- لہذا جواب سے آگاہ فرمائیں؟
المستفتی: محمد جمیل اختر رضوی، تحریک تلاش کتب رضویہ، قصبہ و پوسٹ بارا،کانپور
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب : خنزیر کے سوا ہر مردہ جانور کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے-لہذا اگر نمک یا دوا یا دھوپ وغیرہ سے اس کی رطوبت و بدبو دور کر دی جائے یعنی دباغت دے دی جائے تو کھال پاک ہو جائے گی اس پر نماز بھی پڑھ سکتے ہیں اور اسے فروخت بھی کر سکتے ہیں اور جب بیع جائز، تو اس کے عوض میں جو ثمن ملے وہ بھی حلال و جائز، لہذا اس کو اپنی ضروریات و صدقہ و خیرات سب میں صرف کر سکتے ہیں کوئی حرج نہیں-اس تفصیل کے پیش نظر اگر زید دباغت کے بعد بیچتا ہے تو وہ بیع حلال و صحیح ہے اور اس کا دام بھی حلال و طیب ہے-
ہدایہ میں ہے : ولا بیع جلود الميتة قبل أن تدبغ لانه غیر منتفع به ولا بأس بيعها والإنتفاع بها بعد الدباغ لأنها طهرت بالدباغ "١ ھ ملخصا )ص۳۹ ج۳- کتاب البیوع باب البیع الفاسد
در مختار میں ہے” جلد ميتة قبل الدبغ لو بالعرض ولو بالثمن فباطل و بعدہ ای الدبغ يباع الا جلد انسان و حية و ينتفع به لطهارته حينئذ” اھ ملخصا )ص۷۳ ج۵ کتاب البیوع باب البيع الفاسد کھال
فتاوی رضویہ میں ہے” کھال اگر پکا کر یا دھوپ میں سکھا کر دباغت کر لی جائے تو بیچنا جائز ہے لطهارته وحل الانتفاع به ورنہ حرام و باطل ہے *لانه جزء ميتة وبيع الميتة باطل” اھ ص٣٦ ج۷) مردار کی کھال بعد دباغت بیچنا جائز ہےمردار کی کھال بعد دباغت بیچنا مردار کی کھال بعد دباغت بیچنمردار کی کھال بعد دباغت بیچنا جائز ہےواللہ تعالیٰ اعلم
كتبه : محمد صدیق عالم القادری
۱۸ ؍ ربیع الآخر شریف۔ ١٤٢٧ھ
الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح: محمد ابرار احمد امجدی برکاتی